click here

اُس نے ہم کو گناہ میں رکھا



اُس نے ہم کو گناہ میں رکھا
اور پھر کم ہی دھیان میں رکھا

کیا قیامت نمو تھی وہ جس نے
حشر اُس کی اٹھان میں رکھا


جوششِ خوں نے اپنے فن کا حساب
ایک چوب۔۔اک چٹان میں رکھا

لمحے لمحے کی اپنی تھی اِک شان
تُو نے ہی ایک شان میں رکھا

ہم نے پیہم قبول و رد کر کے
اُس کو اک امتحان میں رکھا

تم تو اس یاد کی امان میں ہو
اُس کو کِس کی امان میں رکھا

اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان میں رکھا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...