click here

اپنی منزل کا راستہ بھیجو



اپنی منزل کا راستہ بھیجو
جان ہم کو وہاں بُلا بھیجو

کیا ہمارا نہیں رہا ساون
زُلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو


نئی کلیاں جو اَب کھِلی ہیں وہاں
اُن کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو

ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو

دھُول اڑتی ہے جو اُس آنگن میں
اُس کو بھیجو۔۔صبا صبا بھیجو

اے فقیرو! گلی کے اُس گُل کی
تم ہمیں اپنی خاکِ پا بھیجو

شفقِ شامِ ہجر کے ہاتھوں
اپنی اُتری ہوئی قبا بھیجو

کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو
کچھ نہیں۔۔کوئی بَد دُعا بھیجو

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...