click here

کب اس کا وصال چاہیے تھا

کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا

کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا

شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا

اک چہرۂ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا

اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو مُحال چاہیے تھا

میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اُس شخص کو حال چاہیے تھا

ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا

وہ جسم۔۔جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا

وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا

تھا وہ جو کمال۔۔شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا

جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...