جون ایلیا کے 28 "خون آلود" اشعار.....
جون ایلیا کے 28 "خون آلود" اشعار.....
1.
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
2.
تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی
اس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو
3.
رنگ ہر رنگ میں ہے داد طلب
خون تھوکوں تو واہ واہ کیجئے
4.
میرے حجرے کا کیا بیاں کہ یہاں
خون تھوکا گیا شرارت میں
5.
کیوں نہ تھوکا جائے اب خونِ جگر
یعنی تم میرا زیاں تھیں فارحہ
6.
سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے
وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے
7.
تھوک کر خون رنگ میں رہنا
میں ہنر مند ہوں اذیت کا
8.
رنگ ہی کیا ترے سنورنے کا
ہم لہو تھوک کر سنورتے ہیں
9.
ہم تو بس خون تھوکتے ہیں میاں
نہیں خوگر کسی مشقت کے
10.
بول کر داد کے دو بول میاں
خون تھکوا لو شعبدہ گر سے
11.
تھوک دے خون جان لے وہ اگر
عالم ترکِ مدعا میرا
12.
وہ داستاں تمہیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
13.
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے
14.
خون تھوکے گی زندگی کب تک
یاد آئے گی اب تری کب تک
15.
خون میں تر بتر رہا مرا نام
ہر زمانے کا سچ رہا ہوں میں
16.
اس مسلسل شب جدائی میں
خون تھوکا گیا ہے مہ پارہ
17.
کیا کیا نہ خون تھوکا میں اس گلی میں یارو
سچ جاننا وہاں تو جو فن تھا رائگاں تھا
18.
ان خرابوں میں جاں کنی نے مری
خون تھوکا ہے زخم چاٹے ہیں
19.
خون کے گھونٹ پی رہا ہوں میں
یہ میرا خون ہے شراب نہیں
20.
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے
21.
کیا لوگ تھے کہ رنگ بچھاتے چلے گئے
رفتار تھی کہ خون کی رفتار کچھ سنا
22.
زیرِ محراب اب رواں خوں ہے
از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے
23.
ہے جو پر خوں تمہارا عکسِ خیال
زخم آئے کہاں کہاں جاناں
24.
ہے ندامت لہو نہ رویا دل
زخم دل کے کسی چٹان میں تھے
25.
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
26.
ہو کبھی تو شراب وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
27.
ہمیں سیراب نئی نسل کو کرنا ہے سو ہم
خون میں اپنی نہانے کے لیے نکلے ہیں
28
کارخانوں میں خون تھوکنے کے
اپنی روزی کما رہا ہوں میں
Post a Comment