click here

بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا


بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا

تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی
تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا

ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ
مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا

جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے
کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا

بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے
گناہ ترک بادہ کر لیا کیا

یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں
سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا

اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک
بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا

تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں
بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا

بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...