click here

آدمی وقت پر گیا ہوگا

آدمی وقت پر گیا ہوگا 
وقت پہلے گزر گیا ہوگا 

وہ ہماری طرف نہ دیکھ کے بھی 
کوئی احسان دھر گیا ہوگا 

خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں 
آج ہر شخص مر گیا ہوگا 

شام تیرے دیار میں آخر 
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا 

مرہم ہجر تھا عجب اکسیر 
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...