click here

یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا

یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا 
محبت زک اٹھا کر آئی تھی کیا

نہ کثدم ہیں نہ افعی ہیں نہ اژدر 
ملیں گے شہر میں انسان ہی کیا

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں 
فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

یہ ربط بے شکایت اور یہ میں 
جو شے سینے میں تھی وہ بجھ گئی کیا

محبت میں ہمیں پاس انا تھا 
بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا

نہیں ہے اب مجھے تم پر بھروسا 
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا

جواب‌ بوسہ سچ انگڑائیاں سچ 
تو پھر وہ بیوفائی جھوٹ تھی کیا

شکست اعتماد ذات کے وقت 
قیامت آ رہی تھی آ گئی کیا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...