click here

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں

jaun Elia.PNG

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں
کر رہے ہیں یاد اسے ہم روزوشب
ہیں بُھلانے کی اسے تیاریاں
تھا کبھی میں اک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مت ماریاں
جھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بےچاریاں
شعر تو کیا بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جون ہیں سرکاریاں
جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں
ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں
سُن رکھو اے شہر دارو ! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں
جون ایلیا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...