click here

دلِ جان! وہ آ پہنچا، درہم شکنِ دلہا

دلِ جان! وہ آ پہنچا، درہم شکنِ دلہا
دہم شکنِ دلہا برہم زنِ محفلہا
یہ نغمہ ساعت کر اے مطربِ کج نغمہ
ہے نعرہ قاتل در حلقہ بسملہا
ہے شام کے بے قابو وہ خجر گیاں آشوب
لو آ ہی گیا کافر اے مجمعِ غافلہا
گردابِ عبث میں ہم اس موج پہ مائل ہیں
جو موج کہ یاراں ہے دور افگنِ ساحلہا
ہم نادرہ جویاں کو وہ راہ خوش آئی ہے
جو آبلہ پرور ہے بے مرہم منزلہا
ہم اس کے ہیں اے یاراں اس کے ہیں جو ٹھہرا ہے
آشوب گرِ جانہا دیوانہ گر۔ دلہا
مجنوں پسِ مجنوں ہے بے شورِ فغاں اے دا
محمل پسِ محمل ہے بے لیلٰی محملہا
جون ایلیا

کوئی تبصرے نہیں

نمایاں پوسٹ

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم   خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم   یہ کافی...